میں پاکستانی ہوں 14 اگست 1947، پاکستان کی تاریخ کا وہ دن جس کے بارے میں ہم بچپن سے کچھ اس انداز میں سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان بنانے کے لیے قائداعظم نے انتھک کوشش کی، ہمارے بزرگوں نے بے پناہ قربانیاں دی، لوگوں کی جائیدادیں ان کے گھر لٹ گئے اور ایسے بے پناہ الفاظ جو اب ہمیں رٹ چکے ہیں اور یہ اکثر تقریریں کرنے کے بہت کام آتے ہیں یا پھر کسی پہ بلاوجہ کی دھاک بٹھانی ہو تو بھی کام چلایا جا سکتا ہے. لیکن کیا ہم نے کبھی ان الفاظ کو سمجھنے کی کوشش کی؟ ہم نے جاننے کی کوشش کی کہ یہ ملک یہ پاکستان جس کی آزاد فضا میں ہم سانس لے رہے ہیں اسکا مقصد کیا تھا؟ جس پاکستان کو اب ہم برا بھلا کہتے ہیں، جہاں سے نکلنے کے لیے تدبیریں کرتے ہیں وہ کیوں بنا؟ کیا کیا قربانیاں دی گئی؟ اور جن شاہینوں کے سکھ کے لیے آزاد مملکت بنائی گئی وہ شاہین کون سے گل کھلا رہے ہیں یہاں؟ تو چلیں ذرا اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں؛ میں کسی سیاستدان یا ملک کے ذمہ داران کی نہیں بلکہ ایک عام شہری ہوتے ہوئے ایک عام انسان کی بات کروں گی. تو جناب ہم 14 اگست کا دن موٹر سائیکل پر دندناتے ہوئے گزارتے ہیں، اور بہت سے لوگوں کا آخری دن بھی یہ بن جا...